22 ستمبر 2013 - 20:30

آیران کا شامی حکومت واپوزیشن مذاکرات پر زور/ شام کے دہشت گردوں کے نیٹو کے ساتھ خفیہ تعلقات/ شام کے دہشت گردوں نے جنیوا 2 میں شرکت کے لئے شرط رکھی ہے/ روسی سفارتخانے اور عیسائی محلے پر مارٹر حملے/ چین اور روس کیمیاوی ماہرین شام بھجوانے کے لئے تیار/ ترک صدر نے شام کے بارے میں مذاکرت میں ایران کی شرکت پر زور دیا/ شام کے مسائل کے بارے ہونے والے مسائل میں ایران کی شرکت ضروری ہے

ــ ایران نے شام کی حکومت اور اپوزیشن مذاکرات پر زور دیاصدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے مسلح افواج کے مارچ پاسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جو لوگ ہمارے علاقے میں نئی لڑائی کے درپے ہیں انہيں جان لینا چاہئے کہ اس جنگ کا نتیجہ ان کی ندامت اور پشیمانی کی صورت میں برآمد ہوگا۔ انھوں نے کہا: ہم شامی قوم سمیت تمام قوموں کی خواہشات کا ساتھ دیتے ہیں اور ہم شامی اپوزیشن نے کہتے ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آکر بیٹھیں تا کہ شامی عوامی کے مطالبات سامنے آسکیں اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاسکے اور ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقے کو جنگجویانہ نگاہ سے نہ دیکھیں۔ــ شام کے دہشت گردوں کے نیٹو کے ساتھ خفیہ تعلقات حزب اللہ لبنان کی سیاسی شوری کے رکن حسن حب اللہ نے شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد تنظیموں اور نیٹو کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جو تنظمیں شام کے خلاف برسرپیکار ہیں، ان کا تعلق نیٹو سے ہے اور انہیں عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔حب اللہ نے مزید کہا: اس میں شک نہيں ہے کہ ان دہشت گردوں کا ہدف و مقصد حکومت کا تختہ الٹنا ہے اور اس حکومت کا گناہ یہ ہے کہ یہ اسلامی مزاحمت تحریک کی حمایت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا: مغربی ممالک ـ بالخصوص نیٹو کے رکن ممالک ـ کی مسلسل کوشش یہ جتانا ہے کہ گویا شام میں دہشت گردوں سے ان کا کوئی تعلق نہيں ہے۔ــ شام کے دہشت گردوں نے جنیوا 2 میں شرکت کے لئے شرط رکھی ہےشامی مخالفین کے اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے کہا ہے کہ اگر اسد حکومت با اختیار عبوری حکومت تشکیل دے تو حکومت کے مخالفین جنیوا 2 کانفرنس میں شرکت کریں گے۔۔ حالانکہ اس سے قبل دہشت گرد تنظیمیں اس کانفرنس میں شرکت کو صدر اسد کے استعفے سے مشروط کیا کرتے تھے۔واضح رہے کہ امریکہ نے حملے کے ذریعے دہشت گردوں کا موقف مضبوط بنانے کی کوشش کی لیکن حملہ نہ ہوسکا اور شام کے اندر دہشت گرد مسلسل پسپا ہورہے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر امریکہ، صہیونی ریاست اور عرب حکام کی اس خواہش کے لئے جانیں دے رہے ہیں کہ کانفرنس منعقد نہ ہو۔ چنانچہ شکست خوردہ دہشت گردوں کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کو مشروط کیا جانا، باعث حیرت ہے۔ــ شام: روسی سفارتخانے اور عیسائی محلے پر مارٹر حملے مسلح دہشت گردوں نے دمشق میں روسی سفارتخانے اور ایک عیسائی محلے پر مارٹر حملے کئے جن کے نتیجے میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور متعدد زخمی ہوئے۔ روسی وزارت خارجہ نے سفارتخانے پر مارٹر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور سفارتخانے کے حفاظتی اقدامات سخت کردیئے گئے ہیں اور حملے کے بارے میں تحقیقات شامی اداروں کے تعاون سے جاری ہیں۔  امریکی وزارت خارجہ نے روسی سفارتخانے پر مارٹر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ان اداروں اور افراد پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کی حمایت حال ہے۔ ــ چین اور روس کیمیاوی ماہرین شام بھجوانے کے لئے تیارچینی وزیر خارجہ "وانگ پی" نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے کہا ہے کہ چین اپنے کیمیاوی ماہرین شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے سلسلے میں مدد دینے کے لؤے شام بھجوانے کے لئے تیار ہے۔روسی وزير خارجہ نے کہا: شام کے ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے عمل کے لئے بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت ہے اور روس اپنی فورسز کو شام بھجوانے کے لئے تیار ہے۔ ــ شام: ترک صدر نے شام کے بارے میں مذاکرت میں ایران کی شرکت پر زور دیاترک صدر عبداللہ گل ـ جو اقوامی متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کی غرص سے نیویارک کے دورے پر ہیں ـ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو شام کے بارے میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنی چاہئے کیونکہ ترکی اور ایران کا شام کے مسائل کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ ــ نیویارک ٹائمز: شام کے مسائل کے بارے ہونے والے مسائل میں ایران کی شرکت ضروری ہےامریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو شام کے سلسلے میں ہونے والے فیصلوں میں شریک کرنا چاہئے کیونکہ ایران خود صدام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔شام میں ترکی کے راستے چیچن دہشت گردوں کی دراندازی چیچن جمہوریہ کے وزیر داخلہ نے رپورٹ دی ہے کہ شام میں حکومت اور عوام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی میں متعدد چیچن دہشت گرد آذربائی جان اور ترکی کے راستے شام میں داخل ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روسی وفاقی حکومت کے حکام کو تشویش ہے کہ یہ دہشت گرد شام واپس آکر ملک میں دہشت گردی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق شام میں برسرپیکار چیچن دہشت گردوں کی صحیح تعداد کا کسی کو علم نہيں ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 200 سے 500 تک ہوسکتی ہے۔